ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / روہنگیا مسلمانوں پر تشدد، انڈونیشیا میں احتجاج کے بعد وزیر خارجہ میانمار پہنچ گئیں

روہنگیا مسلمانوں پر تشدد، انڈونیشیا میں احتجاج کے بعد وزیر خارجہ میانمار پہنچ گئیں

Tue, 05 Sep 2017 22:03:43    S.O. News Service

ینگون ،5ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف انڈونیشیا میں جو احتجاج ہوا تھا، اُس کو دیکھتے ہوئے  انڈونیشیا کی وزیر خارجہ رٹنو مارسوڈی برما کی لیڈر آنگ سان سوچی اور ملک کے فوجی کمانڈر اور قومی سلامتی کے مشیر کیساتھ ملاقاتوں اور راکھین ریاست میں جاری بحران پر گفتگو کے لیے میانمار پہنچ گئی ہیں۔روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کے لیے سیکڑوں مظاہرین کئی روز سے جکارتا میں میانمار کے سفارت خانے کے سامنے موجود ہیں۔ وہ انڈو نیشیا کی حکومت پر پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

انڈونیشیاکے صدر جوکو ویڈوڈو نے کہا ہے کہ ہم اور انڈونیشیا کے عوام اس تشدد کی مذمت کرتے ہیں جو میانمار کی ریاست راکھین میں ہوا۔ اس سلسلے میں محض تنقید کی نہیں بلکہ حقیقی اقدام کی ضرورت ہے۔ حکومت انڈونیشیا کی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی برادری کے تعاون سے انسانی ہمدردی کے بحران کے حل میں مدد دینے سے وابستہ ہے۔انڈونیشیا کے صدر کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے وزیر خارجہ سے کہہ دیا ہے کہ وہ راکھین ریاست کے بحران کے بارے میں میانمار کی حکومت اور بین الاقوامی عہدے داروں سے گفت و شنید کریں۔ان کا کہنا ہے کہ میں نے وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس ،روہنگیا ریاست کے لئے  خصوصی ایڈوائزری کمیشن، کوفی عنان،سمیت مختلف فریقوں سے بات چیت کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ ہماری وزیر خارجہ میانمر حکومت سے تشدد بند کرنے اور مزید تشدد روکنے کے ساتھ ساتھ میانمر کے مسلمانوں سمیت تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انسانی ہمدردی کی امداد تک رسائی فراہم کرنے کی درخواست کریں گے۔میانمار کے بعدانڈونیشیا کی وزیر خارجہ اپنی جانیں بچا کر فرار ہونے والے لوگوں کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد کی تیاری کے لیے بنگلہ دیش جائیں گی۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے أمور سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ راکھین میں گزشتہ ماہ پھوٹنے والے تشدد کے بعد سے 87000 روہنگیا باشندے جان بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش جا چکے ہیں۔ اس ریلے کے نتیجے میں امدادی ادارے رسدوں اور طبی دیکھ بھال کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔


Share: